حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محسن اراکی نے رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کی شان میں ٹرمپ کی گستاخی پر شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہبرِ معظم کے خلاف کسی قسم کی دراندازی کے بین الاقوامی معاملات پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
آیت الله اراکی کے بیانیے کا متن مندرجہ ذیل ہے:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
ان حساس حالات میں، اسلامی جمہوریہ ایران نے رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای مدظلہ العالی کی حکیمانہ اور شجاعت مندانہ ہدایات کی برکت سے اقتدار کے ساتھ سلامتی، سیاسی اور بین الاقوامی پیچیدہ ترین موڑ سے عبور کیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ایرانی قوم کے دشمن کا اصلی چہرہ آشکار ہوا ہے اور پوری بے شرمی سے دھمکی اور گستاخانہ بیان دیا ہے۔
تسلط پسند نظام و صیہونزم کے دو شکست خوردہ مجسمے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے دھمکی آمیز بیانات اور ہرزہ سرائی، ان کی قدرت کی دلیل نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے محاذ کی بیچارگی کا جلوہ ہے جو ایرانی قوم اور انقلابِ اسلامی کے حکیم رہبر کے فولادی عزم کے مقابلے میں بارہا محاسباتی غلطی کا شکار ہوا ہے۔ انہوں (امریکہ اور اسرائیل) نے کئی سالوں سے جنگ ترکیبی، اقتصادی دباؤ، جنگ نرم، اندرونی فتنے اور دہشت گرد عناصر کی حمایت سے ایرانی قوم کے ارادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن آج انہیں علم ہو گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کا ستون، ولی فقیہ کی الہام بخش قیادت اور اُن کا ایرانی مؤمن و آگاہ قوم سے گہرا تعلق ہے۔
ایران کی غیور اور مؤمن قوم رہبرِ معظم کی واضح، آگاہانہ اور دوٹوک حمایت پر تاکید کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی اور ایرانی قوم کے عزم پر کسی قسم کا حملہ، دھمکی اور جسارت، ایرانی قوم کی قومی اور دینی شناخت پر حملہ شمار کیا جائے گا اور دھمکی دینے والے اور ان دھمکیوں کے حامیوں سمیت خطے اور بین الاقوامی سطح پر، سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
آج ایرانی قوم کے دشمنوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ مفت میں دی جانے والی دھمکیوں کا زمانہ گزر چکا ہے اور آج اسلامی جمہوریہ ایران، قومی طاقت، اندرونی یکجہتی اور عوامی حمایت سے اپنی سلامتی اور رہبرِ معظم کی عزت و مقام کے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے؛ لہٰذا کسی قسم کی محاسباتی غلطی کے بین الاقوامی معاملات پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
والسّلام علی من اتبع الھدیٰ









آپ کا تبصرہ